14 اگست 2014 - 19:11
اسرائیل کے پاس چار سو کے قریب جوہری ہتھیار ہیں

آیت اللہ خاتمی نے کہاکہ اسرائیل کے پاس 4سو کے قریب جوہری ہتھیار ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اس بات سے واقف نہیں ہے اور غاصب صہیونی حکومت کو مغرور عالمی سامراجی طاقتوں کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک مختصر انٹریو میں آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ اسرائیل سے لاحق خطرے کی بڑی وجہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے پاس 4سو کے قریب جوہری ہتھیار ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اس بات سے واقف نہیں ہے اور غاصب صہیونی حکومت کو مغرور عالمی سامراجی طاقتوں کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

 اسرائیل کے جوہری پروگرام کو مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے اور علاقے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ اکثرماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے دوسو تک جوہری  ہتھیار موجود ہے جس کا خلاصہ اسّی کی دہائی میں سنڈی ٹائمز نے اسرائیلی نیوکلیر رایکٹر میں کام کر رہے ایک ملازم کے حوالے سے کیا تھا۔

درایں اثنا دسمبر 2006 میں سابق صہیونی وزیر اعظم اہد المارٹ اور اس کے ایک ہفتے بعد اس وقت کے امریکی وزیر دفاع رابار گیٹس نے بھی اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کی تصدیق کی ۔

 سال 2008 میں امریکہ کے سابق صدر جیمی کارٹر نے کہاکہ اسرائیل کے پا س کم ازکم 150 جوہری ہتھیار موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲